صوفیہ مرزا کی بیٹیوں کے وارنٹ گرفتاری، شہزاد اکبر کی جانب سے مدد کا انکشاف

دبئی: انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹر پول) کے جنرل سیکرٹریٹ نے تصدیق کی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے اداکارہ صوفیہ مرزا اور کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور کی نابالغ بیٹیوں کے خلاف یلو وارنٹ جاری کرنے کی درخواستیں موصول ہوئیں۔

انٹرپول نے تصدیق کی ہے کہ جڑواں بچوں زینب عمر اور زونیرہ عمر کے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور ان کے نام بین الاقوامی ٹریسنگ اور گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ڈیٹا بیس پر رکھے گئے تھے۔

صوفیہ مرزا کی بیٹیوں کے گرفتاری وارنٹ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سے دو درخواستیں موصول ہونے کے بعد جاری کیے گئے تھے، جس میں سے ایک درخواست 30 اپریل اور دوسری جولائی 2020 میں موصول ہوئی۔

درخواستیں اداکارہ صوفیہ مرزا کی درخواست پر موصول ہوئیں جو مبینہ طور پر ان کی بیٹیوں کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کر کے پاکستان واپس لے جانا چاہتی تھیں۔

انٹرپول نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ زنیرہ اور زینب کے ناموں کو اس وقت حذف کر دیا گیا جب تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دبئی کی شرعی عدالت نے دونوں بیٹیوں کی قانونی تحویل پہلے ہی عمر کو ان کے والد اور قانونی سرپرست کے طور پر دی تھی۔

انٹرپول کے دفتر برائے قانونی امور کے جنرل سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری کردہ دو خطوط اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ زنیرہ اور زینب دونوں کی عمریں 15 سال ہیں۔

پیلے رنگ کے نوٹس خاص طور پر لاپتہ افراد کی تلاش میں مدد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں جو اکثر نابالغ ہوتے ہیں یا ایسے افراد کی شناخت میں مدد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں جو اپنی شناخت نہیں کر پاتے۔

واضح رہے کہ عمر ظہور اور صوفیہ مرزا بچیوں کی تحویل کی طویل ترین عدالتی لڑائیوں میں مصروف ہیں، ماضی میں بھی اسی طرح کے وارنٹ 2010 میں جاری کیے گئے تھے لیکن بعد میں متحدہ عرب امارات کے حکام نے عمر فاروق ظہور اور ان کی بیٹیوں کی حوالگی سے انکار کے بعد اسے حذف کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ ڈیٹا کی پروسیسنگ سے متعلق انٹرپول کے قواعد کا آرٹیکل 83(1)(a)(i) خاص طور پر خاندانی تنازعات اور تحویل کے معاملات میں کسی بھی وارنٹ کے اجراء کو منع کرتا ہے۔

انٹرپول کے خط میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے عناصر کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد کمیشن نے پایا کہ چیلنج کردہ ڈیٹا نے قابل اطلاق قوانین کی تعمیل کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں، نتیجے کے طور پر اس نے سمجھا کہ انٹرپول انفارمیشن سسٹم میں ان ڈیٹا کو برقرار رکھنا انٹرپول کے قوانین کے مطابق نہیں تھا اور فیصلہ کیا کہ انہیں حذف کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ انٹرپول جنرل سیکرٹریٹ کو بھیج دیا گیا تھا جس نے اب انٹرپول کی فائلوں سے چیلنج کیا گیا ڈیٹا حذف کر دیا ہے۔

انٹرپول کا خط ظہور کو ان کے دفتر برج السلام، شیخ زید روڈ، دبئی، متحدہ عرب امارات میں لکھا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ایجنسی نے جڑواں بچیوں کے خلاف کارروائی کی کیونکہ اس پر انٹرپول کے ذریعے کارروائی کے لیے اوپر سے دباؤ تھا۔
اگرچہ یہ ظہور اور ان کی سابقہ اہلیہ کے درمیان نجی تنازعہ ہے تاہم سابق وزیر اعظم عمران خان کے احتساب کے مشیر اکبر نے ظہور کے خلاف متعدد کارروائیاں شروع کرنے کی سمری کی منظوری کے لیے یہ معاملہ وفاقی کابینہ میں لے گئے تھے۔
ایف آئی اے لاہور کے سابق سربراہ ڈاکٹر رضوان نے ظہور کے خلاف کارروائی شروع کی اور ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈال دیا، قانونی تقاضے پورے کیے بغیر عدالت سے ایک ایف آئی آر میں ناقابل ضمانت وارنٹ حاصل کیے گئے اور مذکورہ غیر ضمانتی وارنٹ کی بنیاد پر اس کا پاسپورٹ اور CNIC بلیک لسٹ کر دیا تھا اور نیشنل کرائم بیورو پاکستان کی طرف سے انہیں گرفتار کرنے کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

تاہم پہلی بار یہ انکشاف ہوا کہ اداکارہ صوفیہ مرزا کی جڑواں بچیوں زینب اور زنیرہ کی گرفتاری کے یلو وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں