فلسطین۔۔۔سامراجی طاقتیں

بیت المقدس ایک تاریخی اور قدیم ترین مقام ہے۔ مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں تینوں کے نزدیک یہ مقدس ہے۔ بیت المقدس کو القدس بھی کہتے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً 1300کلو میٹر ہے۔ مسلمان تبدیلی قبلہ سے قبل تک اسی کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔
یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا تعمیر کردہ معبد ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ تھا اور اسی شہر سے ان کی تاریخ وابستہ ہے۔ یہی شہر حضرت عیسیٰ کی پیدائش کامقام ہے اور یہی ان کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ بیت المقدس کو یورپی زبانوں میں یروشلم بھی کہتے ہیں۔ بیت المقدس پہاڑیوں پر آباد ہے اور انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صیہون ہے۔ جس پر مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ کوہ صیہون کے نام پر ہی یہودیوں کی عالمی تحریک صیہونیت قائم کی گئی۔
سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بھتیجے لوط علیہ السلام نے عراق سے بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی۔ 620ء میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جبریل امین کی رہنمائی میں مکہ سے بیت المقدس پہنچے اور پھر معراج آسمانی کے لئے تشریف لے گئے۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے وحی الٰہی کے مطابق مسجد اقصیٰ کی بنیاد ڈالی اوراس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا۔ پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سليمان علیہ السلام کے حکم سے مسجد اور شہر کی تعمیرنو اور تجدید کی گئی۔ اس لئے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ جب 14 مئی 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطین کے 78 فیصد رقبے پر قابض ہو گئے تاہم بیت المقدس اور غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آ گئے۔ جون 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پربھی تسلط جما لیا۔ یوں مسلمانوں کا قبلہ اول بدستور یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ یہودیوں کے بقول 70ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے، اسی لئے اسے “دیوار گریہ” کہا جاتا ہے۔ اب یہودی مسجد اقصٰی کو گرا کو ہیکل تعمیر کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔
15اپریل 2022ء کو جمعہ کی صبح اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔طلوع فجر سے قبل اسرائیلی سکیورٹی فورسز مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئیں۔ جہاں ہزاروں فلسطینی رمضان کے مقدس مہینے میں نماز کے لئے جمع تھے۔ صیہونی فورسز کے تشدد میں کم از کم 152 فلسطینی زخمی ہوئے۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا، رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر حملے کئے جاتے ہیں۔ اسرائیلی فورسز نے نہتے فلسطینیوں پر لاٹھی چارج کیا، ربڑ کی گولیاں برسائیں۔ فلسطینی مسجد اقصیٰ میں پولیس کی کسی بھی تعیناتی کو ایک بڑی اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ مسجد اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہ مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر بنائی گئی ہے جو یہودیوں کے لئے سب سے مقدس مقام ہے اور وہ اسے ’’ٹمپل ماؤنٹ‘‘ کہتے ہیں۔یہ کئی دہائیوں سے اسرائیلی اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کا ایک بڑا فلیش پوائنٹ رہا ہے ۔
فلسطین کےغیور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک ایسی جدوجہد کر رہے ہیں۔امریکا نے کبھی فلسطین پر ہورہے مظالم پر بات کی اورنہ اسرائیل کے جارحانہ عزائم کی مذمت بلکہ امریکا کے لئے اسرائیل کا تحفظ اہم ہے۔اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینی کبھی ہار تسلیم نہیں کریں گے اور فلسطینی جوانوں نے اپنے عزم و حوصلے سے یہ ثابت بھی کر دکھایا ہے۔انہوں نے فلسطین کی عالمی حمایت یافتہ طاقت پر یہ باور کروا دیا ہے کہ جبر کی یہ رات ایک دن ضرور ختم ہو گی۔ جس کے بعدایک زیادہ روشن صبح طلوع ہو گی۔
آزادی فلسطین کے حوالے سے امریکہ اور اقوام متحدہ کا کردار انتہائی مکروہ ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں پر جہاں جہاں پر مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے۔ اقوام متحدہ میں پیش کی گئی قراردادوں پر کبھی بھی بروقت ایکشن نہ لیا گیا۔ اس کی بڑی مثالیں بوسینیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہے۔ لیبیا پر راج کرنے کے لئے جب امریکہ آگے آیا تو وہاں پر یلغار کے لئے عراق، لیبیا، شام، یمن اور مسلمان جہاں جہاں بھی بستے ہیں ، ان پر ظلم کرنے کے لئے اقوام متحدہ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کئی افواج کو ایک قسم کا این او سی جاری کیاکہ وہ مسلمان علاقوں اور ان ممالک کو تباہ کرنے میں اپنا کردار کرسکتی ہیں اور یہ سب کچھ امن کے نام پر ہو رہا تھا۔ خاص طور پر اس معاملے میں عراق کی مثال ابھی کل کی بات ہے، جس کے بارے میں کہا گیا کہ عراق کے پاس ’’ویپن آف ماسک ڈسٹرکشن‘‘ ہے اور اسی بات کو بنیاد بنا کر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ بعد ازاں امریکی سی آئی اے کے عہدیداروں نے کئی برس بعد اس بات کو تسلیم کیا کہ یہ جھوٹی رپورٹیں خود ہی تیار کی گئی تھیں تاکہ ان کو بہانہ بنا کر عراق کی حربی قوت پر ضرب لگائی جا سکے۔ دیکھنے کی بات یہ ہےکہ امریکہ نے امن کے نام پر دنیا بھر میں جو تباہی مچائی، وہاں اسے کبھی انسانی حقوق یاد نہیں آئے لیکن جہاں امریکی مفادات یا یورپی مفادات پیش نظر ہوتے ہیں، وہاں اگر ایک کتا بھی مارا جائے تو اسے مسئلہ بنا کر اسکے ذمہ داروں کا تعین کرنے میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
دہشت گردی کی جنگ کا بہانہ بنا کر افغانستان کو نشانہ بنایا گیا اور پورے افغانستان کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا حالانکہ دہشت گردی کی اس واردات میں جو بنیادی طور پر امریکہ اور سی آئی اے کی اپنی سازش تھی، جس کے نتیجے میں ’’ٹوئن ٹاور‘‘ کو اڑا دیا گیا۔ اس میں کوئی بھی مسلمان ، دنیا کے کسی ملک سے تعلق رکھنے والا شریک نہ تھا۔ روس کا راستہ روکنے کے لئے افغانستان میں پہلے دنیا بھر سے مجاہدین کو اکٹھا کیا گیا، اس وقت یہ مجاہدین تھے، انہیں ٹریننگ دی گئی، اسلحہ مہیا کیا گیا،ان کی قربانیاں حاصل کی گئیں، روس کو پسپا کیا گیا لیکن اس کے بعد جب امریکہ کا اپنا خیال ہوا کہ وہ اس پر قابض ہوجائے تو انہیں مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ اسامہ بن لادن جس کو وہ بہت بڑا دہشت گرد پینٹ کرتے ہیں، اسامہ بن لادن کو امریکہ میں ریڈ کارپٹ استقبالیہ دیا گیا۔ ان کا وائٹ ہاؤس کا دورہ آج بھی کیمرے میں آنکھوں میں محفوظ ہے اور دیکھا جا سکتا ہے کہ اس وقت کی امریکی قیادت پر ان پر قدر ’’صدقے واری‘‘ ہو رہی ہے۔ امریکہ کے دوہرے معیار کی وجہ سے ان کا مکروہ چہرہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ہے اور حریت پسند طاقتیں اب ان کے نئے جال میں نہیں آئیں گی۔ وہ اپنی آزادی اور خطہ ارض کی آزادی کے لئے بلخصوص فلسطینی عوام اور فلسطینی مجاہدین فلسطین کی آزادی کے لئے عرصہ دراز سے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں اور فلسطین کی آزادی تک یہ قربانیاں پیش کی جاتی رہیں گی۔
فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی میں اگر اس وقت کوئی ملک ان ’’بلیک اینڈ وائٹ ‘‘ آواز بلند کرتا نظر آتا ہےتو وہ صرف ایران ہے، اس کی ثابت قدمی کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے، اس کے علاوہ عالم اسلام پر ایک خوف کے سائے ہیں، کوئی فلسطینیوں کے حق میں واضح طور پر آواز بلند کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ان کی عملی میدان میں مدد کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں