پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ معاشی دہشتگردی ہے: شہباز شریف

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 روپے فی لٹر مزید اضافہ معاشی دہشتگردی ہے ۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات میں 3 روپے فی لیٹر مزید اضافہ ظلم اور غریب عوام کے خلاف معاشی دہشت گردی ہے۔ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے پر عوام کو ریلیف نہیں دیاگیا تھا لیکن اضافے پر خوب پھرتی دکھائی گئی۔

صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مزید کہا کہ قیمتوں میں اضافہ بھی عمران نیازی کی طرف سے عوام پر “احسان” کے انداز میں کیا جاتا ہے، ناہلی ، نالائقی اور کرپشن میں ڈوبی حکومت عوام کو مہنگائی کی دلدل میں ڈبو چکی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے نئے سال میں مسلسل دوسری مرتبہ عوام پر پٹرول بم گرا دیا اور قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

تفصیلات کے مطابق عوام پر ایک اور مہنگائی بم حکومت کی طرف سے گرا دیا گیا ہے، پٹرول کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر فی لٹر 3 روپے ایک پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور نئی قیمت 147روپے 83 پیسے ہو گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 33 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، لائٹ ڈیزل کی فی لٹر نئی قیمت 114 روپے 54 پیسے ہو گئی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور فی لٹر نئی قیمت144روپے62پیسے ہوگئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لٹر قیمت میں 3روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور نئی قیمت نئی قیمت 116 روپے 48 پیسے ہوگئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اوگرا کی طرف سے پٹرول کی قیمت میں 5.52 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6.19 روپے اضافے کی ڈیمانڈ کی گئی تھی۔لیکن وزیراعظم نے سیلز ٹیکس میں کمی کا حکم دیا۔

وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور عالمی مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے قدر میں 6.2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے سیلز ٹیکس میں کمی کی ہدایت کے بعد وزارت خزانہ کا 2.6 ارب روپے کا ریونیو کم ہو گا۔ حکومت نے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جزوی اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں