یورپ کی آدھی آبادی کے اومی کرون میں مبتلا ہونے کا خطرہ

نیویارک: دنیا بھر میں کورونا کا نیا ویرینٹ اومی کرون زور بڑھنے لگا اور یورپ کی آدھی آبادی کے عالمی وبا میں مبتلا ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں ایک ہی روز میں 13 لاکھ سے زائد کیسز منظر عام پر آنے کے بعد نیا ریکارڈ قائم ہوگیا ، چین نے امریکا سے آنے والی کئی پروازوں پر پابندی عائد کردی جبکہ آسٹریلیا، فرانس، روس اور برازیل میں بھی صورتحال پیچیدہ ہوگئی ہے ۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس پھیلنے کی یہی شرح برقرار رہی تودو ماہ کی محدود مدت میں یورپ کی 50 فیصد آبادی کورونا کا شکار ہوجائے گی۔
دوسری جانب امریکا میں صرف ایک روز میں 13 لاکھ سے زائد کورونا کیسز منظرعام پر آنے کے بعد نیا ریکارڈ بن گیا جبکہ گزشتہ دوہفتوں میں مریضوں کے ہسپتال میں داخل ہونے کی شرح میں 83 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔

ادھر چین نے مسافروں میں کورونا کی تصدیق کے بعد امریکا سے آنے والی 60 کے قریب پروازیں معطل کردیں، شمالی شہر تیانجن اور شینگ ژو میں اومی کرون کیسز منظر عام پر آنے کے بعد سخت پابندیاں نافذ کردی گئیں ، آسٹریلیا میں اومی کرون وائرس کے باعث صحت کے نظام پر شدید دباؤ ہے،ایک ہفتے میں 86 ہزار کیسز کی تصدیق ہوئی ، 4ہزار افراد ہسپتالوں میں زیر علا ج ہیں ۔

فرانس میں ایک روز میں ساڑھے 3 لاکھ سے زائد کورونا کیسز کی تصدیق ہوئی ، روس کے 13 ریجنز میں اومی کرون وائرس کے 305 کیسزسامنےآئے ، برازیل میں اومی کرون ویرینٹ کورونا کی دیگراقسام سے زیادہ پھیل چکا ہے ، میکسیکو کے صدر آندرے مینو ئل لوپیز دوسری بار کورونا میں مبتلا ہوگئے ، انڈونیشیا نے اومی کرون کے خطرے کے پیش نظر عوام کو کورونا ویکسین کی تیسری ڈوز لگانے کا اعلان کردیا ہے ۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے خبر دار کیا ہے کہ کورونا کی ابھرنے والی نئی اقسام سے تحفظ کے لئے باربار ویکسین کی بوسٹر لگوانا کامیاب حکمت عملی نہیں جبکہ نئے ویرینٹ سے تحفظ کے لئے نئی اور مزید موثر ویکسین بنانے کی ضرورت ہے ۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں