پاکستان ریلوے کی تاریخ میں اب تک کئی بڑئے حادثات رونما ہوچکے

لاہور: پاکستان ریلوے کی تاریخ میں اب تک کئی بڑئے حادثات ہوئے جن میں سیکڑوں افراد جان سے گئے اور ریلوے کو کروڑوں کا نقصان بھی ہو چکا۔
پاکستان ریلوے کی تاریخ کئی بڑے حادثات سے بھری پڑی ہے، بھیانک ترین ٹرین حادثہ 4 جنوری 1990 کو ہوا، جب پنوں عاقل کے قریب سانگی میں ٹرین حادثے میں 307 افراد جان سے گئے۔
1953 جھمپیر کے قریب ٹرین حادثے میں 200 افراد جاں بحق ہوئے، اسی طرح 1954 میں جنگ شاہی کے قریب ٹرین حادثے میں 60 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں جبکہ ریلوے کو کروڑوں کا نقصان ہوا۔
22 اکتوبر 1969 کو لیاقت پور کے قریب ٹرین حادثے کا شکار ہوئی، 80 افراد جان سے گئے۔ 13 جولائی 2005 کو گھوٹکی کے قریب تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں، 120 افراد جاں بحق ہوئے۔
جولائی 2013 میں خان پور کے قریب ٹرین رکشے سے ٹکرا گئی، 14 افراد جان سے گئے۔ 2 جولائی 2015 کو گوجرانوالہ میں خوفناک ٹرین حادثہ پیش آیا، 19 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ 17 نومبر 2015 بلوچستان میں ٹرین حادثے کے نتیجے میں 20 افراد لقمہ اجل بنے۔
3 نومبر 2016 کو کراچی کے علاقے لانڈھی میں دو ٹرینیں آپس میں ٹکرائیں، نتیجہ بھی خوفناک نکلا، 21 افراد جاں بحق ہوئے۔ 31 اکتوبر 2019 کو ضلع رحیم یار خان میں مسافر ٹرین میں آگ لگنے سے 74 افراد جان سے گئے۔
11 جولائی 2019 کو رحیم یار خان کے قریب اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، جس میں 20 مسافر جاں بحق اور 60 زخمی ہوئے۔ سال 2019 پاکستان ریلوے کی تاریخ کا بدترین سال ثابت ہوا، 100 سے زائد حادثات ہوئے۔
ریلوے ریکارڈ کے مطابق سب سے زیادہ جون میں 20 حادثات ہوئے، انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ ریلوے کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں